بغداد2اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عراقی انٹیلی جنس کے ترجمان نے ہفتے کے روز ایک اعلان میں بتایا کہ داعش تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا مبینہ نائب ایاد الجمیلی جمعے کے روز ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا۔ ترجمان کے مطابق شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے القائم میں عراقی فضائیہ کی کارروائی میں الجمیلی کے ساتھ تنظیم کے کئی دیگر کمانڈر بھی مارے گئے۔دوسری جانب داعش تنظیم کے خلاف امریکا کے زیرِ قیادت بین الاقوامی اتحاد کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز عراقی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی اس خبر کی ابھی تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے۔عراقی ٹیلی وژن نے فوجی انٹیلی جنس کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ " الانبار صوبے کے مغربی علاقے القائم میں مارا جانے والا ایاد حامد الجمیلی تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے بعد دوسرا اہم ترین شخص تھا۔ "ابو یحیی" کے نام سے معروف کمانڈر داعش تنظیم میں گوریلاجنگ کاوزیربھی تھا۔بیان کے مطابق حملے میں القائم میں تنظیم کا عسکری ذمے دار ترکی جمال الدلیمی عرف "ابو ہاجر" اور القائم میں تنظیم کے انتظامی امور کا ذمے دار سالم مظفر العجمی عرف "ابو خطاب" بھی موت کی نیند سو گیا۔امریکی اور عراقی ذمے داران کا خیال ہے کہ البغدادی نے موصل کا معرکہ جاری رکھنے کے لیے آپریشنز کمانڈروں کے ساتھ اپنے مخلص ترین پیروکاروں کا ایک مجموعہ چھوڑدیا ہے جب کہ وہ خود اس وقت تنظیم کے کئی سینئر کمانڈروں کے ساتھ صحرائی علاقے میں روپوش ہے۔یاد رہے کہ ایاد الجمیلی سابق عراقی صدر صدام حسین کے دور میں انٹیلی جنس کا ایک افسر تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ الجمیلی نے عراق اور شام میں داعش تنظیم کے اعلی ترین سکیورٹی ادارے کی قیادت کی اور اس کا البغدادی کے ساتھ براہ راست تعلق تھا۔عراقی فوج کی جانب سے البغدادی کے بارے میں سرکاری طور پر آخری رپورٹ 13 فروری کو جاری کی گئی تھی۔ اس موقع پر فوج کے بیان میں بتایا گیا تھا کہ عراقی فضائیہ کے F-16 طیاروں نے شام کے ساتھ سرحد کے نزدیک مغربی عراق میں ایک گھر کو حملے کا نشانہ بنایا تھا جہاں البغدادی اور تنظیم کے دیگر کمانڈروں کے درمیان ملاقات جاری تھی۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی اتحاد کے فضائی حملوں میں داعش تنظیم کے 40 سے زیادہ کمانڈر مارے جا چکے ہیں اور البغدادی نے ابھی تک سرکاری طور پر اپنے کسی جانشیں کا تعین نہیں کیا۔